مجید امجد
Majeed Amjad: Urdu poetry
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
100 verses on this site
Poem
میں اب آیا ہوں اتنے برسوں کے بعد
Poem
پت جھڑ کی اداس سلطنت میں
Poem
دیکھ پھر آج بھی اس نگری میں
Nazm
بادل گرجا گرے سنہری پردے دلوں دریچوں پر
Nazm
ہر سال ان صبحوں کے سفر میں اک دن ایسا بھی آتا ہے
Nazm
ان کی کنپٹیوں کے نیچے
Nazm
مرا وجود زندگی کا بھید ہے دیکھ
Nazm
کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن
Nazm
ہر جانب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ ہزاروں گھنی بھوؤں کے نیچے
Nazm
اپنے دل میں ڈر ہو تو یہ بادل کس کو لبھا سکتے ہیں
Nazm
شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر
Nazm
ننھی بھولی میلے میلے گالوں والی بے سدھ سی اک بچی
Nazm
کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں
Nazm
اوروں کی کیا کہیے خود میرا دل بھی انگاروں کا مطبخ ہے
Nazm
تم اس وقت کیا تھے
Nazm
ہر بار اسی طرح سے فطرت
Nazm
اک اک روح کے آگے اک دیوار ہے اونچی گلے گلے تک
Nazm
اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکئ شب میں جاتا ہوں
Nazm
آنکھوں میں کوئی بس جاتا ہے
Nazm
فرنگی جریدوں کے اوراق رنگین
Nazm
ان لوگوں کے اندر جن کے اندر میں بھی ہوں
Nazm
میز پر اخبار کے پھیلے ورق
Nazm
اور یہ انساں ۔۔۔جو مٹی کا اک ذرہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہے
Nazm
مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں صدیوں سے تنہا
Nazm
آسمانوں کے تلے سبز و خنک گوشوں میں
Nazm
آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعت دید
Nazm
ایک اجلا سا کانپتا دھبا
Nazm
اور پھر اک دن میں اور تم ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترے
Nazm
جس بھی روح کا گھونگھٹ سرکاؤ۔۔۔ نیچے اک
Nazm
سنہری دوپہروں روپہلی رتوں
Nazm
مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلے
Nazm
جانے اس روزن میں بیٹھے بیٹھے
Nazm
ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر
Nazm
جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے
Nazm
نہ چھیڑ اے دل جوانی کی کہانی
Nazm
ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں
Nazm
اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہے
Nazm
اس بیری کی اونچی چوٹی پر وہ سوکھا تنہا پتا
Nazm
برہنہ سر ہیں برہنہ تن ہیں برہنہ پا ہیں
Nazm
پھول کی خوشبو ہنستی آئی
Nazm
کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے
Nazm
کیا خبر صبح کے ستارے کو
Nazm
تو پریم مندر کی پاک دیوی تو حسن کی مملکت کی رانی
Nazm
خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی
Nazm
میں نے اس کو دیکھا ہے
Nazm
کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا
Nazm
بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری
Nazm
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
Nazm
جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا
Nazm
کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
Ghazal
جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
Ghazal
مہکتے میٹھے مستانے زمانے
Ghazal
ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے
Ghazal
بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے
Ghazal
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم
Ghazal
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ
Ghazal
کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا
Ghazal
کس کی گھات میں
Nazm
سیرِ سرما
Nazm
ریلوے اسٹیشن پر
Nazm
آج تھی میرے مقدر میں
Nazm
پنواڑی
Nazm
نژادِ نَو
Nazm
منٹو
Ghazal
ضمیر راز داں ہے اور ، میں ہوں
Nazm
دکھ کا ہر بہروپ انوکھا
Nazm
توسیعِ شہر
Ghazal
التماس
Ghazal
جنونِ عشق
Ghazal
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے
Nazm
کون دیکھے گا
Nazm
آٹوگراف
Nazm
یہ دنیا
Nazm
دل دریا سمندروں ڈونگھے
Ghazal
اُمّیدِ دیدِ دوست کی
Nazm
سازِ فقیرانہ
Nazm
کہانی ایک ملک کی
Ghazal
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر
Nazm
زندگی اے زندگی
Ghazal
ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے
Ghazal
اب یہ مسافت کیسے طے ہو
Nazm
ابد کے سمندر کی
Nazm
پھولوں کی پلٹن
Ghazal
قریب دل ، خروشِ صد جہاں ہم
Ghazal
چاندنی میں، سایہ ہائے کاخ و کُو
Ghazal
تِرے فرقِ ناز پہ تاج ہے
Ghazal
جب اک چراغ راہگزار کی کرن پڑے
Ghazal
اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی
Ghazal
کیا سوچتے ہو
Ghazal
اپنے دل کی کھوج میں
Nazm
سفر کی موج میں تھے
Ghazal
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی
Nazm
دل نے ایک ایک دکھ سہا، تنہا
Ghazal
کیا روپ دوستی کا
Ghazal
برس گیا بہ خراباتِ آرزُو، تِرا غم
Ghazal
دن کٹ رہے ہیں
Ghazal
ہر وقت فکرِمرگِ غریبانہ چاہیئے
Ghazal
بڑھی جو حد سے
Ghazal
روش روش پہ ہیں
Ghazal
دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے