جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے
کا کفارہ بن سکتے ہیں
کیا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں ان کا
جن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ان ویراں صحنوں تک ہے
کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقت
نا صاحب اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلو بھر کر بھیک کسی کو دے کر
ہم سے اپنے قرض نہیں اتریں گے
اور یہ قرض اب تک کس سے اور کب اترے ہیں
لاکھوں نصرت مند ہجوموں کی خنداں خنداں خونیں آنکھوں سے بھرے ہوئے
تاریخ کے چوراہوں پر
صاحب تخت خداوندوں کی کٹتی گردنیں بھی حل کر نہ سکیں یہ مسائل
اک سائل کے مسائل
اپنے اپنے عروجوں کی افتادگیوں میں ڈوب گئیں سب تہذیبیں سب فلسفے۔۔۔
تو اب یہ سب حرف زبوروں میں جو مجلد ہیں کیا حاصل ان کا۔۔۔
جب تک میرا یہ دکھ خود میرے لہو کی دھڑکتی ٹکسالوں میں ڈھل کے دعاؤں بھری اس اک
میلی جھولی میں نہ کھنکے
جو رستے کے کنارے مرے قدموں پہ بچھی ہے
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔