برہنہ سر ہیں برہنہ تن ہیں برہنہ پا ہیں
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
برہنہ سر ہیں برہنہ تن ہیں برہنہ پا ہیں
شریر روحیں
ضمیر ہستی کی آرزوئیں
چٹکتی کلیاں
کہ جن سے بوڑھی اداس گلیاں
مہک رہی ہیں
غریب بچے کہ جو شعاع سحر گہی ہیں
ہماری قبروں پہ گرتے اشکوں کا سلسلہ ہیں
وہ منزلیں جن کی جھلکیوں کو ہماری راہیں
ترس رہی ہیں
انہی کے قدموں میں بس رہی ہیں
حسین خوابوں
کی دھندلی دنیائیں جو سرابوں
کا روپ دھارے
ہمارے احساس پر شرارے
انڈیلتی ہیں
انہیں کی آنکھوں میں کھیلتی ہیں
انہی کے گم سم
اداس چہروں پر جھلملاتے ہوئے تبسم
میں ڈھل گئے ہیں ہمارے آنسو ہماری آہیں
طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے جب اک دن
ہمارے سائے
اس اپنی دنیا کی لاش اٹھائے
تو سیل رواں
کی کوئی موج حیات ساماں
فروغ فردا
کا رخ پہ ڈالے مہین پردا
اچھل کے شاید
سمیٹ لے زندگی کی سرحد
کے اس کنارے
پہ گھومتے عالموں کے دھارے
یہ سب جا ہے بجا ہے لیکن
یہ توتلی نو خرام روحیں کہ جن کی ہر سانس انگبیں
اگر انہی کونپلوں کی قسمت میں ناز بالیدگی نہیں ہے
تو بہتی ندیوں
میں آنے والی ہزار صدیوں
کا یہ تلاطم
سکوت پیہم کا یہ ترنم
یہ جھونکے جھونکے
میں کھلتے گھونگھٹ نئی رتوں کے
تھکی خلاؤں
میں لاکھ ان دیکھی کہکشاؤں
کی کاوش رم
ہزار نا آفریدہ عالم
تمام باطل
نہ ان کا مقصد نہ ان کا حاصل
اگر انہی کونپلوں کی قسمت میں ناز بالیدگی نہیں ہے
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔