ہر سال ان صبحوں کے سفر میں اک دن ایسا بھی آتا ہے
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
ہر سال ان صبحوں کے سفر میں اک دن ایسا بھی آتا ہے
جب پل بھر کو ذرا سرک جاتے ہیں میری کھڑکی کے آگے سے گھومتے گھومتے
سات کروڑ کرے اور سورج کے پیلے پھولوں والی پھلواڑی سے اک پتی اڑ کر
میرے میز پر آ گرتی ہے
ان جنباں جہتوں میں ساکن
تب اتنے میں سات کروڑ کرے پھر پاتالوں سے ابھر کر اور کھڑکی کے سامنے آ کر
دھوپ کی اس چوکور سی ٹکڑی کو گہنا دیتے ہیں
آنے والے برس تک
اس کمرے تک واپس آنے میں مجھ کو اک دن اس کو ایک برس لگتا ہے
آج بھی اک ایسا ہی دن ہے
ابھی ابھی اک آڑی ترچھی روشن سیڑھی صد ہا زاویوں کی پل بھر کو جھک آئی تھی
اس کھ��کی تک
ایک لرزتی ہوئی موجودگی اس سیڑھی سے ابھی ابھی اس کمرے میں اتری تھی
برس برس ہونے کے پرتو کی یہ ایک پرت اس میز پر دم بھر یوں ڈھلتی ہے
جانے باہر اس ہونی کے ہست میں کیا کیا کچھ ہے
آج یہ اپنے پاؤں تو پاتالوں میں گڑے ہوئے ہیں
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔