تو پریم مندر کی پاک دیوی تو حسن کی مملکت کی رانی
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
تو پریم مندر کی پاک دیوی تو حسن کی مملکت کی رانی
حیات انساں کی قسمتوں پر تری نگاہوں کی حکمرانی
جہان الفت تری قلمرو حریم دل تیری راجدھانی
بہار فطرت ترے لب لعل گوں کی دوشیزہ مسکراہٹ
نظام کونین تیری آنکھوں کے سرخ ڈوروں کی تھرتھراہٹ
فروغ صد کائنات تیری جبین سیمیں کی ضو فشانی
بھڑکتے سینوں میں بس رہی ہیں قرار بن کر تری ادائیں
ترستی روحوں کو جام عشرت پلا رہی ہیں تری وفائیں
رگ جہاں میں تھرک رہی ہے شراب بن کر تری جوانی
دماغ پروردگار میں جو ازل کے دن سے مچل رہا تھا
زبان تخلیق دہر سے بھی نہ جس کا اظہار ہو سکا تھا
نمود تیری اسی مقدس حسیں تخیل کی ترجمانی
ہے وادی نیل پر ترا ابر زلف سایہ کناں ابھی تک
ہیں جام ایراں کی مے میں تیرے لبوں کی شیرینیاں ابھی تک
فسانہ گو ہے تری ابھی تک حدیث یوناں کی خوں چکانی
ہے تیری الفت کے راگ پر موج رود گنگا کو وجد اب تک
تری محبت کی آگ میں جل رہا ہے صحرائے نجد اب تک
جمال زہرہ ترے ملائک فریب جلووں کی اک نشانی
تری نگاہوں کے سحر سے گل فشاں ہے شعر و ادب کی دنیا
ترے تبسم کے کیف سے ہے یہ غم کی دنیا طرب کی دنیا
ترے لبوں کی مٹھاس سے شکریں ہے زہراب زندگانی
ترا تبسم کلی کلی میں ترا ترنم چمن چمن میں
رموز ہستی کے پیچ و خم تیرے گیسوؤں کی شکن شکن میں
کتاب تاریخ زندگی کے ورق ورق پر تری کہانی
جو تو نہ ہوتی تو یوں درخشندہ شمع بزم جہاں نہ ہوتی
وجود ارض و سما نہ ہوتا نمود کون و مکاں نہ ہوتی
بشر کی محدودیت کی خاطر ترستی عالم کی بیکرانی
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔