Prof. Syed Mujahid Sajjad

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر

تھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیں

تھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی بانہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیں

یہ جوئے رواں ہے

کہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیں

یہ پگھلے ہوئے زرد تانبے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیں

کہ زنجیر ہائے رواں ہیں

بس اک شور طوفاں

کنارا نہ ساحل

نگاہوں کی حد تک

سلاسل سلاسل

کہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیں

بہے جا رہے ہیں

کہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیں

جہاں پر ابد کا کنارا ہے اور اک وہ گاؤں

وہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad