Prof. Syed Mujahid Sajjad

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلے

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلے

سرخ لہو کا تھا اک چھینٹا چکنا گیلا چمکیلا چمکیلا

مٹی اس پہ گری اور میلی سی اک پیڑھی اس پر سے اتری

اور پھر سیندوری سا اک خاکہ ابھرا

جو اب پکی سڑک پر کالا سا دھبہ ہے

پسی ہوئی بجری میں جذب اور جامد ان مٹ

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر مسلا ہوا وہ داغ لہو کا

میں نے تو پہلی بار اس دن

اپنی رنگ برنگی قاشوں والی گیند کے پیچھے

یوں ہی ذرا اک جست بھری تھی

ابھی تو میرا روغن بھی کچھا تھا

کس نے انڈیل دیا یوں مجھ کو اس مٹی پر

اوں اوں میں نہیں مٹتا میں تو ہوں اب بھی ہوں

میں یہ سن کر ڈر جاتا ہوں

کالی بجری کے روغن میں جینے والے اس معصوم لہو کی کون سنے گا

ممتا بک بھی چکی ہے چند ٹکوں میں

قانون آنکھیں میچے ہوئے ہے

قاتل پہیے بے پہرا ہیں

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad