Prof. Syed Mujahid Sajjad

تم اس وقت کیا تھے

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

تم اس وقت کیا تھے

تمہارے محلوں تمہارے گھروں میں تو سب کچھ تھا

آسائشیں بھی وسیلے بھی

اس کبریائی کی تمکنت بھی

سبھی کچھ تمہارے تصرف میں تھا زندگی کا ہر اک آسرا بھی

کڑے بام و در بھی

چمن بھی ثمر بھی

مگر تم خود اس وقت کیا تھے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

جب اڑتی ہلاکت کے شہ پر تمہارے سروں پر سے گزرے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

اگر اس مقدس زمیں پر

مرا خوں نہ بہتا

اگر دشمنوں کے گرانڈیل ٹینکوں کے نیچے

مری کڑکڑاتی ہوئی ہڈیاں خندقوں میں نہ ہوتیں

تو دوزخ کے شعلے تمہارے معطر گھروندوں کی دہلیز پر تھے

تمہارے ہر اک بیش قیمت اثاثے کی قیمت

اس سرخ مٹی سے ہے جس میں میرا لہو رچ گیا ہے

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad