مرا وجود زندگی کا بھید ہے دیکھ
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
مرا وجود زندگی کا بھید ہے دیکھ
یہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگ گل سے خراش
یہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گداز
یہ ایک روح بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر!
ذرا قریب تو آ دیکھ تیرے سامنے ہیں
یہ سرخ رس بھرے لب جن کی اک جھلک کے لیے
کبھی قبیلوں کے دل جوشنوں میں دھڑکے تھے
جو تو کہے تو یہی ہونٹ سرخ رس بھرے ہونٹ
ترے لہو میں شگوفے کھلا بھی سکتے ہیں!
قریب آ یہ بدن میری زندگی کا طلسم
تری نگاہ کی چنگاریوں کا پیاسا ہے
جو تو کہے تو یہی نرم لہریا آنچل
یہی نقاب مری چٹکیوں میں اٹکی ہوئی
یہی ردا مری انگڑائیوں سے مسکی ہوئی
یہ آبشار ڈھلانوں سے گر بھی سکتی ہے
بس ایک شرط۔۔۔ یہ گوہر سطور دستاویز
ذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو س��ی
اکائیوں کے ادھر جتنے دائرے ہوں گے!
ادھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔