شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر
ایک ریوڑ کے تھکے قدموں کا مدھم آہنگ
جس کی ہر لہر دھندلکوں میں لڑھک جاتی ہے
مست چرواہا چراگاہ کی اک چوٹی سے
جب اترتا ہے تو زیتون کی لانبی سونٹی
کسی جلتی ہوئی بدلی میں اٹک جاتی ہے
بکریاں دشت کی مہکار میں گوندھا ہوا دودھ
چھاگلوں میں لیے جب رقص کناں آتی ہیں
کوئی چوڑی خم دوراں پہ چھنک جاتی ہے
جست بھرتی ہے کبھی اور کبھی چلتے چلتے
ناچتی ڈار ممکتے ہوئے بزغالوں کی
ہر جھکی شاخ کی چوکھٹ پہ ٹھٹک جاتی ہے
سان پر لاکھ چھری سیخ پہ صد پارہ گوشت
پھر بھی مدہوش غزالوں کی یہ ٹولی ہے کہ جو
بار بار اپنے خط رہ سے بھٹک جاتی ہے
شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر
کھیلتی ہے غم ہستی کی وہ شاداں سی امنگ
جس کی رو وقت کی پہنائیوں تک جاتی ہے
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔