میز پر اخبار کے پھیلے ورق
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
میز پر اخبار کے پھیلے ورق
بکھرے بکھرے تیرہ تیرہ چاک چاک
ڈھل گئی ہے قالب الفاظ میں
سینۂ ہستی کی آہ دردناک
پاس ہی دیوار کو ٹیکے ہوئے
ریڈیو گرم سخن محو بیاں
چیختی ہیں جامۂ آواز میں
خون کے چھینٹے لہو کی بوندیاں
شام ریڈنگ روم کی مغموم شام
چند کان اعلانچی کی بات پر
چند آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئیں
مرتکز اخبار کے صفحات پر
ایک کمرے میں سمٹ کر آ گئے
کتنے دکھڑوں کے صدا پیکر حروف
کتنے دردوں کے مسطر زمزمے
کتنے اندھے گیانی بہرے فلیسوف
پھر بھی کچھ ادراک میں آتا نہیں
کیا ہے رقص گردش ایام کیا
اک شکستہ ناؤ اک خونی بھنور
کیا ہے اس افسانے کا انجام کیا
یہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں
چھت کے نیچے روزنوں کے درمیاں
گول گول آنکھوں کے اندر محو دید
کالے پارے کی مرقص پتلیاں
کاش یہ حیراں کبوتر جانتے
خفتہ ہے ان کاغذوں کی سطح پر
کتنے پھنکتے آشیانوں کا دھواں
کتنے نخچیروں کی آہوں کے شرر
ہیں ان آوازوں کے اندر پر کشا
کتنے کرگس جن کو مرداروں کی بو
کھینچ لائی ہے سر دیوار باغ
چھت کے نیچے مضطرب نظارہ خو
فکر مند آنکھوں میں حیراں پتلیاں
یہ کبوتر دیکھتے تھکتے نہیں
دیکھتے ہیں سوچتے ہیں کیا کریں
یہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔