Prof. Syed Mujahid Sajjad

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں

جتنے وقت میں لقمہ پلیٹ سے منہ میں پہنچتا ہے۔۔۔ اور

اکثر ایسی مرادوں کی تو پہنچ بھی لقموں تک ہوتی ہے

اور جب ایسی منزلیں بارور ہوتی ہیں تو شہر پنپتے ہیں اور گاؤں پھبکتے ہیں۔۔۔ اور

تہذیبوں کی منڈیوں میں ہر جانب قسطاسوں کی ٹیڑھی ڈنڈیاں روز و شب تیزی تیزی سے

انسانوں کی جھولیوں میں رزقوں کی دھڑیاں الٹتی ہیں اور

بھرے سماجوں میں شدھ تلقینوں کی ڈونڈیاں پیٹنے والے بھی اپنی اپنی پیغمبریوں کی تنخواہیں پاتے ہیں

لیکن کس کو خبر ہے ایسی بھی ہیں منزلیں جن تک جانے والے راستوں پر نہ دعا کا سایہ ہے نہ قضا کا گڑھا ہے

کچھ ہے بھی تو بس اپنی سوچوں کی دھجیوں میں سمٹی ہوئی اک بے چارگی جس کی بے صدا

ہوک میں عمریں ڈوب جاتی ہیں

اور قطبوں سے قطبوں تک اڑ اڑ کر جانے والے تھکے پروں کی کمانیں بھی تو

اک منزل پہ چمکتی آبناؤں کی سمت لچک جاتی ہیں

لیکن ہائے وہ منزلیں جن تک ہر سچائی رستہ ہے اور ہر سچائی موت کا جیتا نام ہے

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad