Prof. Syed Mujahid Sajjad

خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی

خدا سے کیا گلہ بھائی

خدا تو خیر کس نے اس کا عکس نقش پا دیکھا

نہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا

مگر توبہ مری توبہ یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہے

یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے

ابھی کل تک جب اس کے ابروؤں تک موئے پیچاں تھے

ابھی کل تک جب اس کے ہونٹ محروم زنخداں تھے

ردائے صد زماں اوڑھے لرزتا کانپتا بیٹھا

ضمیر سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا

مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلو خانوں میں بستہ ہے

ہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے

خدا اس کا خدائی اس کی ہر شے اس کی ہم کیا ہیں

چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرہ ہیں

ہماری ہی طرح جو پائمال سطوت میری و شاہی میں

لکھوکھا آب دیدہ پا پیادہ دل زدہ واماندہ راہی ہیں

جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی گم پیما لکیروں میں

دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں

ضرور اک روز بدلے گا نظام قسمت آدم

بسے گی اک نئی دنیا سجے گا اک نیا عالم

شبستاں میں نئی شمعیں گلستاں میں نیا موسم

وہ رت اے ہم نفس جانے کب آئے گی

وہ فصل دیر رس جانے کب آئے گی

یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad