سازِ فقیرانہ
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا
نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا
فقیر ہیں، دو فقیرانہ ساز رکھتے ہیں
ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا
ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام
زمانے بھر سے ہے کم دِل کا ایک کونا کیا
نظامِ دہر کو تیورا کے کس لئے دیکھیں
جو خود ہی ڈوب رہا ہو اسے ڈبونا کیا
بساطِ سیل پہ قصرِ حباب کی تعمیر
یہ زندگی ہے تو پھر ہونا کیا، نہ ہونا کیا
نہ رو کہ ہیں ترے ہی اشک ماہ و مہر امجد
جہاں کو رکھنا ہے تاریک اگر تو رونا کیا
مجید امجد
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔