Prof. Syed Mujahid Sajjad

آنکھوں میں کوئی بس جاتا ہے

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

آنکھوں میں کوئی بس جاتا ہے

میٹھی سی ہنسی ہنس جاتا ہے

احساس کی لہریں ان تاریک جزیروں سے ٹکراتی ہیں

جہاں نغمے پنکھ سنوارتے ہیں

سنگین فصیلوں کے گنبد سے پہرے دار پکارتے ہیں

کیا کرتا ہے

دل ڈرتا ہے

دل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے

ان سونی تنہا راتوں میں

دل ڈوب کے گزری باتوں میں

جب سوچتا ہے کیا دیکھتا ہے ہر سمت دھوئیں کا

بادل ہے وادی و بیاباں جل تھل ہے

ذخار سمندر سوکھے ہیں پر ہول چٹانیں پگھلی ہیں

دھرتی نے ٹوٹتے تاروں کی جلتی ہوئی لاشیں نگلی ہیں

پہنائے زماں کے سینے پر اک موج انگڑائی لیتی ہے

اس آب و گل کی دلدل میں اک چاپ سنائی دیتی ہے

اک تھرکن سی اک دھڑکن سی آفاق کی ڈھلوانوں میں کہیں

تانیں جو ہمک کر ملتی ہیں چل پڑتی ہیں رکتی ہی نہیں

ان راگنیوں کے بھنور بھنور میں صدہا صدیوں گھوم گئیں

ان قرن آلود مسافت میں لاکھ آبلے پھوٹے دیپ بجھے

اور آج کسے معلوم ضمیر ہستی کا آہنگ تپاں

کس دور کے دیس کے کہروں میں لرزاں لرزاں رقصاں رقصاں

اس سانس کی رو تک پہنچا ہے

اس میری میز کی جلتی ہوئی قندیل کی لو تک پہنچا ہے

کون آیا ہے کون آتا ہے کون آئے گا

انجانے من کی مورکھتا کو کیا کیا دھیان گزرتا ہے

دل ڈرتا ہے

دل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad