دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے
کِس قیامت کی، رات گزُری ہے
چاندنی، ۔۔ نیم وا دریچہ، سکوت
آنکھوں آنکھوں میں رات گزُری ہے
ہائے وہ لوگ، خُوب صُورت لوگ
جن کی دُھن میں حیات گزُری ہے
کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج
کتنی یادوں کے سات۔ گزُری ہے
تمتماتا ۔۔ہے ۔۔ چہرۂ ۔۔ ایّام
دل پہ کیا واردات گزُری ہے
پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہے
کہ، نسیمِ حیات گزُری ہے
بُجھتے جاتے ہیں دُکھتی پلکوں پہ دِیپ
نیند آئی ہے، رات گزُری ہے
مجید امجد
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔