Prof. Syed Mujahid Sajjad

کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن

جب اچانک اسی جگہ اک شکل

میری آنکھوں میں مسکرائی تھی

ایک پل کے لیے تو ایک وہ شکل

جانے کیا کچھ تھی جھوٹ بھی سچ بھی

شاید اک بھول شاید اک پہچان

کچھ دنوں سے تو جان بوجھ کے اب

یہ سمجھنے لگا ہوں میں ہی تو ہوں

جس کی خاطر یہ عکس ابھرا ہے

کچھ دنوں سے تو اب میں دانستہ

اس گماں کا فریب کھاتا ہوں

روز اک شکل اس دوراہے پر

اب مرا انتظار کرتی ہے

ایک دیوار سے لگی ہر صبح

ٹکٹکی باندھے نیم رخ یکسو

اب مرا انتظار کرتی ہے

میں گزرتا ہوں مجھ کو دیکھتی ہے

میں نہیں دیکھتا وہ دیکھتی ہے

اس کے چہرے کی ساخت ساعت دید

زرد ہونٹوں کی پتریاں پیتل

سرخ آنکھوں کی ٹکڑیاں قرمز

روغنی دھوپ میں دھنستے ہوئے پاؤں

منتظر منتظر اداس اداس

اک یہی چہرہ ایک پل کے لیے

جانے کیا کچھ تھا لیکن اب تو مجھے

اپنی یہ بھول بھولتی ہی نہیں

ایک دن یہ شبیہ دیکھی تھی

کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن

کچھ دنوں سے تو بیتتے ہوئے دن

اسی اک دن میں ڈھلتے جاتے ہیں

دن گزرتے ہیں اب تو یوں جیسے

عمر اس دن کا ایک حصہ ہے

عمر گزری یہ دن نہیں گزرا

جس طرف جاؤں جس طرف دیکھوں

مجھ سے اوجھل بھی مرے سامنے بھی

شکل اک ٹین کے ورق پہ رہی

شکل اک دل کے چوکھٹے میں رہی

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad