Prof. Syed Mujahid Sajjad

ریلوے اسٹیشن پر

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

آہنی ، سبز رنگ ، جنگلے کے پاس

باتوں باتوں میں ایک برگِ عقیق

تو نے جب توڑ کر مسل ڈالا

مجھے احساس بھی نہ تھا کہ یہی

جاوداں لمحہ ، شاخِ دوراں سے

جھڑ کے ، اک عمر ، میری دنیا پر

اپنی کملاہٹیں بکھیرے گا

اسی برگِ دریدہ جاں کی طرح

آج بھی اس دہکتی پٹڑی پر

گھومتے گھنگھناتے پہیوں کو

سیٹیوں کی دھواں اگلتی صدا

جب پیامِ رحیل دیتی ہے

روز سو سنگتیں اجڑتی ہیں

لاکھ سنجوگ مسکراتے ہیں

آج بھی ریلوے سٹیشن پر

آہنی ، سبز رنگ جنگلے کے پاس

قدِ آدم ، عقیق کے ، پودے

تھام کر سرخ دھاریوں والے

زرد پھولوں کے موہنے گجرے

بھری دنیا کے جمگھٹوں میں کھڑے

گوشت اور پوست کے وہ پیکر ہیں

اک زمانے سے جن کی زندگیاں

لوٹ کر پھر نہ آنے والوں کی

منتظر منتظر چراغ بکف

وقت کے جھکڑوں سے کھیلتی ہیں

اسی برگِ دریدہ جاں کی طرح

اگست 1959ء

مجید امجد

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad