اس بیری کی اونچی چوٹی پر وہ سوکھا تنہا پتا
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
اس بیری کی اونچی چوٹی پر وہ سوکھا تنہا پتا
جس کی ہستی کا بیری ہے پت جھڑ کی رت کا ہر جھونکا
کاش مری یہ قسمت ہوتی کاش میں وہ اک پتا ہوتا
ٹوٹ کے جھٹ اس ٹہنی سے گر پڑتا کتنا اچھا ہوتا
گر پڑتا اس بیری والے گھر کے آنگن میں گر پڑتا
یوں ان پازیبوں والے پاؤں کے دامن میں گر پڑتا
جس کو میرے آنسو پوجیں اس گھر کے خاشاک میں مل کر
جس کو میرے سجدے ترسیں اس دوارے کی خاک میں مل کر
اس آنگن کی دھول میں مل کر مٹتا مٹتا مٹ جاتا میں
عمر بھر ان قدموں کو اپنے سینے پر مضطر پاتا میں
ہائے مجھ سے نہ دیکھا جائے آیا ہوا کا جھونکا آیا
ڈالیاں لرزیں ٹہنیاں کانپیں لو وہ سوکھا پتا ٹوٹا
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔