جون ایلیا
Jaun Elia: Urdu poetry
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
190 verses on this site
Ghazal
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
Ghazal
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
Ghazal
حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی
Ghazal
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
Ghazal
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
Ghazal
بے قراری سی بے قراری ہے
Ghazal
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
Ghazal
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
Ghazal
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
Ghazal
اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
Ghazal
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
Ghazal
نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں
Ghazal
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو
Ghazal
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
Ghazal
اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
Ghazal
شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں
Ghazal
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں
Ghazal
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
Ghazal
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
Ghazal
آدمی وقت پر گیا ہوگا
Ghazal
حال یہ ہے کہ خواہش پرسش حال بھی نہیں
Ghazal
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی
Ghazal
اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
Ghazal
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
Ghazal
چلو باد بہاری جا رہی ہے
Ghazal
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
Ghazal
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
Ghazal
کس سے اظہار مدعا کیجے
Ghazal
وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں
Ghazal
دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
Ghazal
تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے
Ghazal
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
Ghazal
ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
Ghazal
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
Ghazal
کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہوگا
Ghazal
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
Ghazal
روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
Ghazal
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
Ghazal
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
Ghazal
اپنا خاکہ لگتا ہوں
Ghazal
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
Ghazal
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
Ghazal
اب کسی سے مرا حساب نہیں
Ghazal
دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
Ghazal
زندگی کیا ہے اک کہانی ہے
Ghazal
آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا
Ghazal
آخری بار آہ کر لی ہے
Ghazal
جز گماں اور تھا ہی کیا میرا
Ghazal
زخم امید بھر گیا کب کا
Ghazal
آج بھی تشنگی کی قسمت میں
Ghazal
ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں
Ghazal
ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
Ghazal
شوق کا رنگ بجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے
Ghazal
جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں
Ghazal
ہے عجب حال یہ زمانے کا
Ghazal
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
Ghazal
سارے رشتے تباہ کر آیا
Ghazal
کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو
Ghazal
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
Ghazal
کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں
Ghazal
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے
Ghazal
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے
Ghazal
عیش امید ہی سے خطرہ ہے
Ghazal
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
Ghazal
تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو
Ghazal
جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے
Ghazal
ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی
Ghazal
کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو
Ghazal
ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرا
Ghazal
نشۂ شوق رنگ میں تجھ سے جدائی کی گئی
Ghazal
اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے
Ghazal
بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی
Ghazal
اپنی منزل کا راستہ بھیجو
Ghazal
خون تھوکے گی زندگی کب تک
Ghazal
ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے
Ghazal
تم سے بھی اب تو جا چکا ہوں میں
Ghazal
ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں
Ghazal
نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے
Ghazal
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
Ghazal
یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا
Ghazal
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
Ghazal
دل پریشاں ہے کیا کیا جائے
Ghazal
گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
Ghazal
یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں
Ghazal
یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
Ghazal
دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے
Ghazal
سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے
Ghazal
جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا
Ghazal
جاؤ قرار بے دلاں شام بخیر شب بخیر
Ghazal
مجھ کو تو گر کے مرنا ہے
Ghazal
بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیا
Ghazal
اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا
Ghazal
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
Ghazal
سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے
Ghazal
خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
Ghazal
بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں
Ghazal
سر صحرا حباب بیچے ہیں
Ghazal
تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں
Ghazal
گفتگو جب محال کی ہوگی
Ghazal
کب اس کا وصال چاہیے تھا
Ghazal
باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گے
Ghazal
تجھ میں پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ میں
Ghazal
مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے
Ghazal
ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں
Ghazal
شاخ امید جل گئی ہوگی
Ghazal
دولت دہر سب لٹائی ہے
Ghazal
روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں
Ghazal
ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں
Ghazal
خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
Ghazal
اس نے ہم کو گمان میں رکھا
Ghazal
نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا
Ghazal
یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا
Ghazal
مسند غم پہ جچ رہا ہوں میں
Ghazal
ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتے
Ghazal
شکوہ اول تو بے حساب کیا
Ghazal
کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو
Ghazal
وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
Ghazal
ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گا
Ghazal
شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہم راہ چلیں
Ghazal
نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
Ghazal
کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں
Ghazal
کون سے شوق کس ہوس کا نہیں
Ghazal
فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
Ghazal
انقلاب ایک خواب ہے سو ہے
Ghazal
شام تک میری بیکلی ہے شراب
Ghazal
دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے
Ghazal
دل کی ہر بات دھیان میں گزری
Ghazal
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
Ghazal
گزراں ہیں گزرتے رہتے ہیں
Ghazal
دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم
Ghazal
سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
Ghazal
ہائے جانانہ کی مہماں داریاں
Ghazal
کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ
Ghazal
بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن
Ghazal
کیسا دل اور اس کے کیا غم جی
Ghazal
خود سے رشتے رہے کہاں ان کے
Ghazal
شوق کا بار اتار آیا ہوں
Ghazal
میں نہ ٹھہروں نہ جان تو ٹھہرے
Ghazal
عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں
Ghazal
دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش
Ghazal
نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپا
Ghazal
نہ کوئی ہجر نہ کوئی وصال ہے شاید
Ghazal
غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
Ghazal
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
Ghazal
نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے
Ghazal
لازم ہے اپنے آپ کی امداد کچھ کروں
Ghazal
حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے
Ghazal
خواب کی حالتوں کے ساتھ تیری حکایتوں میں ہیں
Ghazal
تشنگی نے سراب ہی لکھا
Ghazal
کیا کہیں تم سے بود و باش اپنی
Ghazal
شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی
Ghazal
سلسلہ جنباں اک تنہا سے روح کسی تنہا کی تھی
Ghazal
کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں
Ghazal
دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو
Ghazal
دید کی ایک آن میں کار دوام ہو گیا
Ghazal
شہر بہ شہر کر سفر زاد سفر لیے بغیر
Ghazal
شمشیر میری، میری سپر کس کے پاس ہے
Ghazal
دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں
Ghazal
کیا ہو گیا ہے گیسوئے خم دار کو ترے
Ghazal
وہ خیال محال کس کا تھا
Ghazal
رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے
Ghazal
طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
Ghazal
کوئے جاناں میں اور کیا مانگو
Ghazal
دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں
Ghazal
کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے
Ghazal
ذکر گل ہو خار کی باتیں کریں
Ghazal
دل سے ہے بہت گریز پا تو
Ghazal
مسکن ماہ و سال چھوڑ گیا
Ghazal
جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام
Ghazal
یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری
Ghazal
اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا
Ghazal
دل کا دیار خواب میں دور تلک گزر رہا
Nazm
رمز
Nazm
سزا
Nazm
شاید
Nazm
درخت زرد
Nazm
دریچہ ہائے خیال
Nazm
اجنبی شام
Nazm
ناکارہ
Nazm
وہ
Nazm
قاتل
Nazm
سفر کے وقت
Nazm
تعاقب
Nazm
بس ایک اندازہ
Nazm
مگر یہ زخم یہ مرہم
Nazm
ہمیشہ قتل ہو جاتا ہوں میں
Nazm
راتیں سچی ہیں دن جھوٹے ہیں
Nazm
خلوت
Nazm
فن پارہ
Nazm
لوح دائرہ