ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
Published 12 October 2026
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
اس کے بغیر اس کی تمنا کئے بغیر
انبار اس کا پردۂ حرمت بنا میاں
دیوار تک نہیں گری پردا کیے بغیر
یاراں وہ جو ہے میرا مسیحائے جان و دل
بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر
میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس
صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر
اس کا ہے جو بھی کچھ ہے مرا اور میں مگر
وہ مجھ کو چاہئے کوئی سودا کیے بغیر
یہ زندگی جو ہے اسے معنیٰ بھی چاہیے
وعدہ ہمیں قبول ہے ایفا کیے بغیر
اے قاتلوں کے شہر بس اتنی ہی عرض ہے
میں ہوں نہ قتل کوئی تماشا کیے بغیر
مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے
تم چھوڑیو نہ شہر کو صحرا کیے بغیر
ان آنگنوں میں کتنا سکون و سرور تھا
آرائش نظر تری پروا کیے بغیر
یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہمیں
سب کچھ ہے خوش گوار گوارا کیے بغیر
گریہ کناں کی فرد میں اپنا نہیں ہے نام
ہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر
آخر ہیں کون لوگ جو بخشے ہی جائیں گے
تاریخ کے حرام سے توبہ کیے بغیر
وہ سنی بچہ کون تھا جس کی جفا نے جونؔ
شیعہ بنا دیا ہمیں شیعہ کیے بغیر
اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی
رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)