سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
گمان
Published 12 October 2026
سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
نام کو بھی اب اضطراب نہیں
خون کر دوں ترے شباب کا میں
مجھ سا قاتل ترا شباب نہیں
اک کتاب وجود ہے تو سہی
شاید اس میں دعا کا باب نہیں
تو جو پڑھتا ہے بوعلی کی کتاب
کیا یہ عالم کوئی کتاب نہیں
اپنی منزل نہیں کوئی فریاد
رخش بھی اپنا بد رکاب نہیں
ہم کتابی سدا کے ہیں لیکن
حسب منشا کوئی کتاب نہیں
بھول جانا نہیں گناہ اسے
یاد کرنا اسے ثواب نہیں
پڑھ لیا اس کی یاد کا نسخہ
اس میں شہرت کا کوئی باب نہیں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)