نشۂ شوق رنگ میں تجھ سے جدائی کی گئی
Published 12 October 2026
نشۂ شوق رنگ میں تجھ سے جدائی کی گئی
ایک لکیر خون کی بیچ میں کھینچ دی گئی
تھی جو کبھی سر سخن میری وہ خامشی گئی
ہائے کہن سنن کی بات ہائے وہ بات ہی گئی
شوق کی ایک عمر میں کیسے بدل سکے گا دل
نبض جنون ہی تو تھی شہر میں ڈوبتی گئی
اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر
ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی
اس کی امید ناز کا مجھ سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی
دور بہ دور دل بہ دل درد بہ درد دم بہ دم
تیرے یہاں رعایت حال نہیں رکھی گئی
جونؔ جنوب زرد کے خاک بسر یہ دکھ اٹھا
موج شمال سبز جاں آئی تھی اور چلی گئی
کیا وہ گماں نہیں رہا ہاں وہ گماں نہیں رہا
کیا وہ امید بھی گئی ہاں وہ امید بھی گئی
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)