ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گا
Published 12 October 2026
ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گا
میں آج تیرا گریبان پھاڑ ڈالوں گا
طرح طرح کے شگوفے جو چھوڑتا ہے تو
میں دل کا باغ نمو ہی اجاڑ ڈالوں گا
کہاں کا سیل اجل تا کنار گاہ عبد
میں ہوں عدم میں سبھی کو لتاڑ ڈالوں گا
بہت ادا سے تو گزرا ہے چشمہ ساروں سے
یہ سن کہ راہ میں تیری میں باڑ ڈالوں گا
شگفتگی کی تری یاد جو دلاتے ہیں
میں ایسے سارے ہی پودھے اکھاڑ ڈالوں گا
یہ طے کیا ہے کہ دریا موج مستی کو
سراب دشت تپیدا میں گاڑ ڈالوں گا
تمام نقش تمنا فریب تھے سو تھے
میں سارے نقش تمنا بگاڑ ڈالوں گا
جو رشتہ ہے دل جاں کا ہے سر بہ سر جھوٹا
سو میں تو اب دل و جاں میں دراڑ ڈالوں گا
جھنڈولے بالوں کی پر فتنہ اس سے کہہ دینا
میں اس کمین کو زندہ ہی گاڑ ڈالوں گا
مجھے تو اب اسے دنگل میں گندہ کرنا ہے
سو میں اسے برے حالوں پچھاڑ ڈالوں گا
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)