Prof. Syed Mujahid Sajjad

ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گا

Jaun Elia

Published 12 October 2026

ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گا

میں آج تیرا گریبان پھاڑ ڈالوں گا

طرح طرح کے شگوفے جو چھوڑتا ہے تو

میں دل کا باغ نمو ہی اجاڑ ڈالوں گا

کہاں کا سیل اجل تا کنار گاہ عبد

میں ہوں عدم میں سبھی کو لتاڑ ڈالوں گا

بہت ادا سے تو گزرا ہے چشمہ ساروں سے

یہ سن کہ راہ میں تیری میں باڑ ڈالوں گا

شگفتگی کی تری یاد جو دلاتے ہیں

میں ایسے سارے ہی پودھے اکھاڑ ڈالوں گا

یہ طے کیا ہے کہ دریا موج مستی کو

سراب دشت تپیدا میں گاڑ ڈالوں گا

تمام نقش تمنا فریب تھے سو تھے

میں سارے نقش تمنا بگاڑ ڈالوں گا

جو رشتہ ہے دل جاں کا ہے سر بہ سر جھوٹا

سو میں تو اب دل و جاں میں دراڑ ڈالوں گا

جھنڈولے بالوں کی پر فتنہ اس سے کہہ دینا

میں اس کمین کو زندہ ہی گاڑ ڈالوں گا

مجھے تو اب اسے دنگل میں گندہ کرنا ہے

سو میں اسے برے حالوں پچھاڑ ڈالوں گا

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia