ہائے جانانہ کی مہماں داریاں
Published 12 October 2026
ہائے جانانہ کی مہماں داریاں
اور مجھ دل کی بدن آزاریاں
ڈھا گئیں دل کو تری دہلیز پر
تیری قتالہ سرینی بھاریاں
اف شکن ہائے شکم جانم تری
کیا کٹاریں ہیں کٹاریں کاریاں
ہائے تیری چھاتیوں کا تن تناؤ
پھر تیری مجبوریاں ناچاریاں
تشنہ لب ہے کب سے دل سا شیر خوار
تیرے دودھوں سے ہیں چشمے جاریاں
دکھ غرور حشر کے جانا ہے کون
کس نے سمجھی حشر کی دشواریاں
اپنے درباں کو سنبھالے رکھیے
ہیں ہوس کی اپنی عزت داریاں
ہیں سدھاری کون سے شہروں طرف
لڑکیاں وہ دل گلی کی ساریاں
خواب جو تعبیر کے بس کے نہ تھے
دوستوں نے ان پہ جانیں واریاں
خلوت مضراب ساز و ناز میں
چاہیے ہم کو تیری سسکاریاں
لفظ و معنی کا بہم کیوں ہے سخن
کس زمانے میں تھیں ان میں یاریاں
شوق کا اک داؤ بے شوقی بھی ہے
ہم ہیں اس کے حسن کے انکاریاں
مجھ سے بد طوری نہ کر او شہر یار
میرے جوتوں کے ہے تلوے خاریاں
کھا گئیں اس ظالم و مظلوم کو
میری مظلومی نما عیاریاں
یہ حرامی ہیں غریبوں کے رقیب
ہیں ملازم سب کے سب سرکاریاں
وہ جو ہیں جیتے انہوں نے بے طرح
جیتنے پر ہمتیں ہیں ہاریاں
تم سے جو کچھ بھی نہ کہہ پائیں میاں
آخرش کرتیں وہ کیا بے چاریاں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)