Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہائے جانانہ کی مہماں داریاں

Jaun Elia

Published 12 October 2026

ہائے جانانہ کی مہماں داریاں

اور مجھ دل کی بدن آزاریاں

ڈھا گئیں دل کو تری دہلیز پر

تیری قتالہ سرینی بھاریاں

اف شکن ہائے شکم جانم تری

کیا کٹاریں ہیں کٹاریں کاریاں

ہائے تیری چھاتیوں کا تن تناؤ

پھر تیری مجبوریاں ناچاریاں

تشنہ لب ہے کب سے دل سا شیر خوار

تیرے دودھوں سے ہیں چشمے جاریاں

دکھ غرور حشر کے جانا ہے کون

کس نے سمجھی حشر کی دشواریاں

اپنے درباں کو سنبھالے رکھیے

ہیں ہوس کی اپنی عزت داریاں

ہیں سدھاری کون سے شہروں طرف

لڑکیاں وہ دل گلی کی ساریاں

خواب جو تعبیر کے بس کے نہ تھے

دوستوں نے ان پہ جانیں واریاں

خلوت مضراب ساز و ناز میں

چاہیے ہم کو تیری سسکاریاں

لفظ و معنی کا بہم کیوں ہے سخن

کس زمانے میں تھیں ان میں یاریاں

شوق کا اک داؤ بے شوقی بھی ہے

ہم ہیں اس کے حسن کے انکاریاں

مجھ سے بد طوری نہ کر او شہر یار

میرے جوتوں کے ہے تلوے خاریاں

کھا گئیں اس ظالم و مظلوم کو

میری مظلومی نما عیاریاں

یہ حرامی ہیں غریبوں کے رقیب

ہیں ملازم سب کے سب سرکاریاں

وہ جو ہیں جیتے انہوں نے بے طرح

جیتنے پر ہمتیں ہیں ہاریاں

تم سے جو کچھ بھی نہ کہہ پائیں میاں

آخرش کرتیں وہ کیا بے چاریاں

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia