Prof. Syed Mujahid Sajjad

تشنگی نے سراب ہی لکھا

Jaun Elia

گمان

Published 12 October 2026

تشنگی نے سراب ہی لکھا

خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا

ہم نے لکھا نصاب تیرہ شبی

اور بہ صد آب و تاب ہی لکھا

منشیان شہود نے تا حال

ذکر غیب و حجاب ہی لکھا

نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال

شوق کو بے حساب ہی لکھا

دوستو ہم نے اپنا حال اسے

جب بھی لکھا خراب ہی لکھا

نہ لکھا اس نے کوئی بھی مکتوب

پھر بھی ہم نے جواب ہی لکھا

ہم نے اس شہر دین و دولت میں

مسخروں کو جناب ہی لکھا

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia