دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے
گمان
Published 12 October 2026
دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے
وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے
ناموری کی بات دگر ہے ورنہ یارو سوچو تو
گلگوں اب تک کتنے تیشے بے خون فرہاد ہوئے
لائیں گے کہاں سے بول رسیلے ہونٹوں کی ناداری میں
سمجھو ایک زمانہ گزرا بوسوں کی امداد ہوئے
تم میری اک خود مستی ہو میں ہوں تمہاری خود بینی
رشتے میں اک عشق کے ہم تم دونوں بے بنیاد ہوئے
میرا کیا اک موج ہوا ہوں پر یوں ہے اے غنچہ دہن
تو نے دل کا باغ جو چھوڑا غنچے بے استاد ہوئے
عشق محلے میں اب یارو کیا کوئی معشوق نہیں
کتنے قاتل موسم گزرے شور ہوئے فریاد ہوئے
ہم نے دل کو مار رکھا ہے اور جتاتے پھرتے ہیں
ہم دل زخمی مژگاں خونیں ہم نہ ہوئے جلاد ہوئے
برق کیا ہے عکس بدن نے تیرے ہمیں اک تنگ قبا
تیرے بدن پر جتنے تل ہیں سارے ہم کو یاد ہوئے
تو نے کبھی سوچا تو ہوگا سوچا بھی اے مست ادا
تیری ادا کی آبادی پر کتنے گھر برباد ہوئے
جو کچھ بھی روداد سخن تھی ہونٹوں کی دوری سے تھی
جب ہونٹوں سے ہونٹ ملے تو یک دم بے روداد ہوئے
خاک نشینوں سے کوچے کے کیا کیا نخوت کرتے ہیں
جاناں جان ترے درباں تو فرعون و شداد ہوئے
شہروں میں ہی خاک اڑا لو شور مچا لو بے جا لو
جن دشتوں کی سوچ رہے ہو وہ کب کے برباد ہوئے
سمتوں میں بکھری وہ خلوت وہ دل کی رنگ آبادی
یعنی وہ جو بام و در تھے یکسر گرد و باد ہوئے
تو نے رندوں کا حق مارا مے خانے میں رات گئے
شیخ کھرے سید ہیں ہم تو ہم نے سنایا شاد ہوئے
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)