Prof. Syed Mujahid Sajjad

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

Jaun Elia

گمان

Published 12 October 2026

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اوپر سے اتر کے تازہ دم تھا

نیچے سے اتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو

اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ

لمحوں میں بکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شل ہے

میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia