حال یہ ہے کہ خواہش پرسش حال بھی نہیں
Published 12 October 2026
حال یہ ہے کہ خواہش پرسش حال بھی نہیں
اس کا خیال بھی نہیں اپنا خیال بھی نہیں
اے شجر حیات شوق ایسی خزاں رسیدگی
پوشش برگ و گل تو کیا جسم پہ چھال بھی نہیں
مجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سود ہے کیا زیاں ہے کیا اس کا سوال بھی نہیں
مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صلح و سلام تو کجا بحث و جدال بھی نہیں
تو مرا حوصلہ تو دیکھ داد تو دے کہ اب مجھے
شوق کمال بھی نہیں خوف زوال بھی نہیں
خیمہ گاہ نگاہ کو لوٹ لیا گیا ہے کیا
آج افق کے دوش پر گرد کی شال بھی نہیں
اف یہ فضائے احتیاط تا کہیں اڑ نہ جائیں ہم
باد جنوب بھی نہیں باد شمال بھی نہیں
وجہ معاش بے دلاں یاس ہے اب مگر کہاں
اس کے ورود کا گماں فرض محال بھی نہیں
غارت روز و شب تو دیکھ وقت کا یہ غضب تو دیکھ
کل تو نڈھال بھی تھا میں آج نڈھال بھی نہیں
میرے زمان و ذات کا ہے یہ معاملہ کہ اب
صبح فراق بھی نہیں شام وصال بھی نہیں
پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی
اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)