یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا
Published 12 October 2026
یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا
محبت زہر کھا کے آئی تھی کیا
مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا
شکست اعتماد ذات کے وقت
قیامت آ رہی تھی آ گئی کیا
مجھے شکوہ نہیں بس پوچھنا ہے
یہ تم ہنستی ہو اپنی ہی ہنسی کیا
ہمیں شکوہ نہیں اک دوسرے سے
منانا چاہیے اس پر خوشی کیا
پڑے ہیں ایک گوشے میں گماں کے
بھلا ہم کیا ہماری زندگی کیا
میں رخصت ہو رہا ہوں پر تمہاری
اداسی ہو گئی ہے ملتوی کیا
میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں
فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا
محبت میں ہمیں پاس انا تھا
بدن کی اشتہا صادق نہ تھی کیا
نہیں رشتہ سموچہ زندگی سے
نہ جانے ہم میں ہے اپنی کمی کیا
ابھی ہونے کی باتیں ہیں سو کر لو
ابھی تو کچھ نہیں ہونا ابھی کیا
یہی پوچھا کیا میں آج دن بھر
ہر اک انسان کو روٹی ملی کیا
یہ ربط بے شکایت اور یہ میں
جو شے سینے میں تھی وہ بجھ گئی کیا
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)