کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ
گمان
Published 12 October 2026
کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ
شام کا وقت ہے میاں چپ رہ
ہو گیا قصۂ وجود تمام
ہے اب آغاز داستاں چپ رہ
میں تو پہلے ہی جا چکا ہوں کہیں
تو بھی جاناں نہیں یہاں چپ رہ
تو اب آیا ہے حال میں اپنے
جب زمیں ہے نہ آسماں چپ رہ
تو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی
تو بھی اب تو نہیں وہاں چپ رہ
ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے
یاں ہے انساں بھی رائیگاں چپ رہ
سارا سودا نکال دے سر سے
اب نہیں کوئی آستاں چپ رہ
اہرمن ہو خدا ہو یا آدم
ہو چکا سب کا امتحاں چپ رہ
درمیانی ہی اب سبھی کچھ ہے
تو نہیں اپنے درمیاں چپ رہ
اب کوئی بات تیری بات نہیں
نہیں تیری تری زباں چپ رہ
ہے یہاں ذکر حال موجوداں
تو ہے اب از گزشتگاں چپ رہ
ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی
دل ہوا جونؔ بے اماں چپ رہ
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)