Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیسا دل اور اس کے کیا غم جی

Jaun Elia

Published 12 October 2026

کیسا دل اور اس کے کیا غم جی

یوں ہی باتیں بناتے ہیں ہم جی

کیا بھلا آستین اور دامن

کب سے پلکیں بھی اب نہیں نم جی

اس سے اب کوئی بات کیا کرنا

خود سے بھی بات کیجے کم کم جی

دل جو دل کیا تھا ایک محفل تھا

اب ہے درہم جی اور برہم جی

بات بے طور ہو گئی شاید

زخم بھی اب نہیں ہے مرہم جی

ہار دنیا سے مان لے شاید

دل ہمارے میں اب نہیں دم جی

ہے یہ حسرت کے ذبح ہو جاؤں

ہے شکن اس شکم کہ ظالم جی

کیسے آخر نہ رنگ کھیلیں ہم

دل لہو ہو رہا ہے جانم جی

ہے خرابہ حسینیہ اپنا

روز مجلس ہے اور ماتم جی

وقت دم بھر کا کھیل ہے اس میں

بیش از بیش ہے کم از کم جی

ہے ازل سے ابد تلک کا حساب

اور بس ایک پل ہے پیہم جی

بے شکن ہو گئی ہیں وہ زلفیں

اس گلی میں نہیں رہے خم جی

دشت دل کا غزال ہی نہ رہا

اب بھلا کس سے کیجئے رم جی

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia