بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیا
Published 12 October 2026
بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیا
پا پیادہ ہو کے کوئی شہسوار آیا تو کیا
زندگی کی دھوپ میں مرجھا گیا میرا شباب
اب بہار آئی تو کیا ابر بہار آیا تو کیا
میرے تیور بجھ گئے میری نگاہیں جل گئی
اب کوئی آئینہ رو آئینہ دار آیا تو کیا
اب کہ جب جانانہ تم کو ہے سبھی پر اعتبار
اب تمہیں جانانہ پہ جب اعتبار آیا تو کیا
اب مجھے خود اپنی باہوں پر نہیں ہے اختیار
ہاتھ پھیلائے کوئی بے اختیار آیا تو کیا
وہ تو اب بھی خواب ہے بے دار بینائی کا خواب
زندگی میں خواب میں اس کے گزار آیا تو کیا
ہم یہاں ہیں بے گناہ سو ہم میں سے جونؔ ایلیا
کوئی جیت آیا یہاں اور کوئی ہار آیا تو کیا
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)