دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں
Published 12 October 2026
دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں
بیچ دیوار ہے اور سایۂ دیوار نہیں
شہر کی گشت میں ہیں صبح سے سارے منصور
اب تو منصور وہی ہے جو سر دار نہیں
مت سنو مجھ سے جو آزار اٹھانے ہوں گے
اب کے آزار یہ پھیلا ہے کہ آزار نہیں
سوچتا ہوں کہ بھلا عمر کا حاصل کیا تھا
عمر بھر سانس لیے اور کوئی انبار نہیں
جن دکانوں نے لگائے تھے نگہ میں بازار
ان دکانوں کا یہ رونا ہے کہ بازار نہیں
اب وہ حالت ہے کہ تھک کر میں خدا ہو جاؤں
کوئی دل دار نہیں کوئی دل آزار نہیں
مجھ سے تم کام نہ لو کام میں لاؤ مجھ کو
کوئی تو شہر میں ایسا ہے کہ بیکار نہیں
یاد آشوب کا عالم تو وہ عالم ہے کہ اب
یاد مستوں کو تری یاد بھی درکار نہیں
وقت کو سود پہ دے اور نہ رکھ کوئی حساب
اب بھلا کیسا زیاں کوئی خریدار نہیں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)