Prof. Syed Mujahid Sajjad

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے

Jaun Elia

Published 12 October 2026

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے

صبح بہ صبح رنج ہے شام بہ شام رنج ہے

اس کی شمیم زلف کا کیسے ہو شکریہ ادا

جب کہ شمیم رنج ہے جب کہ مشام رنج ہے

صید تو کیا کہ صید کار خود بھی نہیں یہ جانتا

دانہ بھی رنج ہے یہاں یعنی کہ دام رنج ہے

معنئ جاودان جاں کچھ بھی نہیں مگر زیاں

سارے کلیم ہیں زبوں سارا کلام رنج ہے

بابا الف مری نمود رنج ہے آپ کے بقول

کیا مرا نام بھی ہے رنج ہاں ترا نام رنج ہے

کاسہ گداگری کا ہے ناف پیالہ یار کا

بھوک ہے وہ بدن تمام وصل تمام رنج ہے

جیت کے کوئی آئے تب ہار کے کوئی آئے تب

جوہر تیغ شرم ہے اور نیام رنج ہے

دل نے پڑھا سبق تمام بود تو ہے قلق تمام

ہاں مرا نام رنج ہے ہاں ترا نام رنج ہے

پیک قضا ہے دم بہ دم جونؔ قدم قدم شمار

لغزش گام رنج ہے حسن خرام رنج ہے

بابا الف نے شب کہا نشہ بہ نشہ کر گلے

جرعہ بہ جرعہ رنج ہے جام بہ جام رنج ہے

آن پہ ہو مدار کیا بود کے روزگار کا

دم ہمہ دم ہے دوں یہ دم وہم دوام رنج ہے

رزم ہے خون کا حذر کوئی بہائے یا بہے

رستم و زال ہیں ملال یعنی کہ سام رنج ہے

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia