رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے
Published 12 October 2026
رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے
صبح بہ صبح رنج ہے شام بہ شام رنج ہے
اس کی شمیم زلف کا کیسے ہو شکریہ ادا
جب کہ شمیم رنج ہے جب کہ مشام رنج ہے
صید تو کیا کہ صید کار خود بھی نہیں یہ جانتا
دانہ بھی رنج ہے یہاں یعنی کہ دام رنج ہے
معنئ جاودان جاں کچھ بھی نہیں مگر زیاں
سارے کلیم ہیں زبوں سارا کلام رنج ہے
بابا الف مری نمود رنج ہے آپ کے بقول
کیا مرا نام بھی ہے رنج ہاں ترا نام رنج ہے
کاسہ گداگری کا ہے ناف پیالہ یار کا
بھوک ہے وہ بدن تمام وصل تمام رنج ہے
جیت کے کوئی آئے تب ہار کے کوئی آئے تب
جوہر تیغ شرم ہے اور نیام رنج ہے
دل نے پڑھا سبق تمام بود تو ہے قلق تمام
ہاں مرا نام رنج ہے ہاں ترا نام رنج ہے
پیک قضا ہے دم بہ دم جونؔ قدم قدم شمار
لغزش گام رنج ہے حسن خرام رنج ہے
بابا الف نے شب کہا نشہ بہ نشہ کر گلے
جرعہ بہ جرعہ رنج ہے جام بہ جام رنج ہے
آن پہ ہو مدار کیا بود کے روزگار کا
دم ہمہ دم ہے دوں یہ دم وہم دوام رنج ہے
رزم ہے خون کا حذر کوئی بہائے یا بہے
رستم و زال ہیں ملال یعنی کہ سام رنج ہے
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)