Prof. Syed Mujahid Sajjad

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا

Jaun Elia

لیکن

Published 12 October 2026

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا

میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا

ذات در ذات ہم سفر رہ کر

اجنبی اجنبی کو بھول گیا

صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات

میں اسے شام ہی کو بھول گیا

عہد وابستگی گزار کے میں

وجہ وابستگی کو بھول گیا

سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں

بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا

کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر

ایک میں ہر کسی کو بھول گیا

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے

آدمی آدمی کو بھول گیا

قہقہہ مارتے ہی دیوانہ

ہر غم زندگی کو بھول گیا

خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا

رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا

کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص

اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا

سوچ کر اس کی خلوت انجمنی

واں میں اپنی کمی کو بھول گیا

سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں

جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا

ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن

اپنی کم فرصتی کو بھول گیا

بستیو اب تو راستہ دے دو

اب تو میں اس گلی کو بھول گیا

اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا

میں بھی گویا اسی کو بھول گیا

یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے

میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا

آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے

بت شکن بت گری کو بھول گیا

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے

غالباً میں کسی کو بھول گیا

اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ

اپنی ایذا دہی کو بھول گیا

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia