Prof. Syed Mujahid Sajjad

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو

Jaun Elia

Published 12 October 2026

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو

کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو

کسی کے بن کسی کی یاد کے بن

جیئے جانے کی ہمت ہے نہیں تو

ہے وہ اک خواب بے تعبیر اس کو

بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو

کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں

تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو

ترے اس حال پر ہے سب کو حیرت

تجھے بھی اس پہ حیرت ہے نہیں تو

ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری

تجھے اس پر ندامت ہے نہیں تو

ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا

یہی ساری حکایت ہے نہیں تو

اذیت ناک امیدوں سے تجھ کو

اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو

تو رہتا ہے خیال و خواب میں گم

تو اس کی وجہ فرصت ہے نہیں تو

سبب جو اس جدائی کا بنا ہے

وہ مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia