چلو باد بہاری جا رہی ہے
گمان
Published 12 October 2026
چلو باد بہاری جا رہی ہے
پیا جی کی سواری جا رہی ہے
شمال جاودان سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے
فغاں اے دشمن دار دل و جاں
مری حالت سدھاری جا رہی ہے
ہے پہلو میں ٹکے کی اک حسینہ
تری فرقت گزاری جا رہی ہے
جو ان روزوں مرا غم ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بردباری جا رہی ہے
ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے
میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہوں
وہ کیا شے ہے جو ہاری جا رہی ہے
دل اس کے رو بہ رو ہے اور گم صم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے
وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے
ہے برپا ہر گلی میں شور نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے
وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے
دریغا تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے
بہت بد حال ہیں بستی ترے لوگ
تو پھر تو کیوں سنواری جا رہی ہے
تری مرہم نگاہی اے مسیحا
خراش دل پہ واری جا رہی ہے
خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)