طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
گمان
Published 12 October 2026
طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
سودا بھی ایک وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں
میں اور خود کو تجھ سے چھپاؤں گا یعنی میں
لے دیکھ لے میاں مرے اندر بھی کچھ نہیں
بس اک غبار وہم ہے اک کوچہ گرد کا
دیوار بود کچھ نہیں اور در بھی کچھ نہیں
یہ شہر دار و محتسب و مولوی ہی کیا
پیر مغان و رند و قلندر بھی کچھ نہیں
شیخ حرام لقمہ کی پروا ہے کیوں تمہیں
مسجد بھی اس کی کچھ نہیں منبر بھی کچھ نہیں
مقدور اپنا کچھ بھی نہیں اس دیار میں
شاید وہ جبر ہے کہ مقدر بھی کچھ نہیں
جانی میں تیرے ناف پیالے پہ ہوں فدا
یہ اور بات ہے ترا پیکر بھی کچھ نہیں
یہ شب کا رقص و رنگ تو کیا سن مری کہن
صبح شتاب کوش کو دفتر بھی کچھ نہیں
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں
گزرے گی جونؔ شہر میں رشتوں کے کس طرح
دل میں بھی کچھ نہیں ہے زباں پر بھی کچھ نہیں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)