مگر یہ زخم یہ مرہم
Published 12 October 2026
تمہارے نام تمہارے نشاں سے بے سروکار
تمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ہیں
بس ایک منظر بے ہجر و وصل ہے جس میں
ہم اپنے آپ ہی کچھ رنگ بھرتے جاتے ہیں
نہ وہ نشاط تصور کہ لو تم آ ہی گئے
نہ زخم دل کی ہے سوزش کوئی جو سہنی ہو
نہ کوئی وعدہ و پیماں کی شام ہے نہ سحر
نہ شوق کی ہے کوئی داستاں جو کہنی ہو
نہیں جو محمل لیلائے آرزو سر راہ
تو اب فضا میں فضا کے سوا کچھ اور نہیں
نہیں جو موج صبا میں کوئی شمیم پیام
تو اب صبا میں صبا کے سوا کچھ اور نہیں
اتار دے جو کنارے پہ ہم کو کشتیٔ وہم
تو گرد و پیش کو گرداب ہی سمجھتے ہیں
تمہارے رنگ مہکتے ہیں خواب میں جب بھی
تو خواب میں بھی انہیں خواب ہی سمجھتے ہیں
نہ کوئی زخم نہ مرہم کہ زندگی اپنی
گزر رہی ہے ہر احساس کو گنوانے میں
مگر یہ زخم یہ مرہم بھی کم نہیں شاید
کہ ہم ہیں ایک زمیں پر اور اک زمانے میں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)