فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
گمان
Published 12 October 2026
فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
آشوب وحدت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
روح کل سے سب روحوں پر وصل کی حسرت طاری ہے
اک سر حکمت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
بے احوالی کی حالت ہے شاید یا شاید کہ نہیں
پر احوالیت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
مختاری کے لب سلوانا جبر عجب تر ٹھہرا ہے
ہیجان غیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
بابا الف ارشاد کناں ہیں پیش عدم کے بارے میں
حیرت بے حیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
معنی ہیں لفظوں سے برہم قہر خموشی عالم ہے
ایک عجب حجت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
موجودی سے انکاری ہے اپنی ضد میں ناز وجود
حالت سی حالت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)