Prof. Syed Mujahid Sajjad

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی

Jaun Elia

Published 12 October 2026

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی

سو مرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئی

دل کا تھا ایک مدعا جس نے تباہ کر دیا

دل میں تھی ایک ہی تو بات وہ جو فقط سہی گئی

جانئے کیا تلاش تھی جونؔ مرے وجود میں

جس کو میں ڈھونڈھتا گیا جو مجھے ڈھونڈھتی گئی

ایک خوشی کا حال ہے خوش سخناں کے درمیاں

عزت شائقین غم تھی جو رہی سہی گئی

بود و نبود کی تمیز ایک عذاب تھی کہ تھی

یعنی تمام زندگی دھند میں ڈوبتی گئی

اس کے جمال کا تھا دن میرا وجود اور پھر

صبح سے دھوپ بھی گئی رات سے چاندنی گئی

جب میں تھا شہر ذات کا تھا مرا ہر نفس عذاب

پھر میں وہاں کا تھا جہاں حالت ذات بھی گئی

گرد فشاں ہوں دشت میں سینہ زناں ہوں شہر میں

تھی جو صبائے سمت دل جانے کہاں چلی گئی

تم نے بہت شراب پی اس کا سبھی کو دکھ ہے جونؔ

اور جو دکھ ہے وہ یہ ہے تم کو شراب پی گئی

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia