احمد فراز
Ahmed Faraz: Urdu poetry
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
190 verses on this site
Ghazal
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
Ghazal
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
Ghazal
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
Ghazal
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
Ghazal
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
Ghazal
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
Ghazal
اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں
Ghazal
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
Ghazal
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
Ghazal
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
Ghazal
قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا
Ghazal
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
Ghazal
دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
Ghazal
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
Ghazal
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
Ghazal
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
Ghazal
نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
Ghazal
اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
Ghazal
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
Ghazal
عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
Ghazal
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
Ghazal
گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
Ghazal
پھر اسی رہ گزار پر شاید
Ghazal
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
Ghazal
کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے
Ghazal
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
Ghazal
روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
Ghazal
تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہی
Ghazal
مثال دست زلیخا تپاک چاہتا ہے
Ghazal
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
Ghazal
شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
Ghazal
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
Ghazal
تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست
Ghazal
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
Ghazal
اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
Ghazal
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
Ghazal
جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے
Ghazal
ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
Ghazal
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
Ghazal
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
Ghazal
تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
Ghazal
اول اول کی دوستی ہے ابھی
Ghazal
یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
Ghazal
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
Ghazal
کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے
Ghazal
گلہ فضول تھا عہد وفا کے ہوتے ہوئے
Ghazal
خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے
Ghazal
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
Ghazal
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
Ghazal
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے
Ghazal
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے
Ghazal
اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے
Ghazal
جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے
Ghazal
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
Ghazal
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
Ghazal
یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں
Ghazal
نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے
Ghazal
عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا
Ghazal
ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو
Ghazal
جان سے عشق اور جہاں سے گریز
Ghazal
لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیں
Ghazal
وہ تفاوتیں ہیں مرے خدا کہ یہ تو نہیں کوئی اور ہے
Ghazal
جب تجھے یاد کریں کار جہاں کھینچتا ہے
Ghazal
نظر بجھی تو کرشمے بھی روز و شب کے گئے
Ghazal
ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیں
Ghazal
سبھی کہیں مرے غم خوار کے علاوہ بھی
Ghazal
ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے
Ghazal
مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں
Ghazal
اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے
Ghazal
یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدا
Ghazal
کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں
Ghazal
وہ دشمن جاں جان سے پیارا بھی کبھی تھا
Ghazal
خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
Ghazal
جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے
Ghazal
معاف کر مری مستی خدائے عز و جل
Ghazal
کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے
Ghazal
کل ہم نے بزم یار میں کیا کیا شراب پی
Ghazal
یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر اسی کا رہا
Ghazal
قرب جاناں کا نہ مے خانے کا موسم آیا
Ghazal
دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا
Ghazal
سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں
Ghazal
سارا شہر بلکتا ہے
Ghazal
تڑپ اٹھوں بھی تو ظالم تری دہائی نہ دوں
Ghazal
مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
Ghazal
گماں یہی ہے کہ دل خود ادھر کو جاتا ہے
Ghazal
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
Ghazal
وحشت دل صلۂ آبلہ پائی لے لے
Ghazal
پیام آئے ہیں اس یار بے وفا کے مجھے
Ghazal
نوحہ گروں میں دیدۂ تر بھی اسی کا تھا
Ghazal
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی
Ghazal
ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا
Ghazal
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
Ghazal
ہم تو خوش تھے کہ چلو دل کا جنوں کچھ کم ہے
Ghazal
جب تری یاد کے جگنو چمکے
Ghazal
فقیہ شہر کی مجلس سے کچھ بھلا نہ ہوا
Ghazal
نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے
Ghazal
جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے
Ghazal
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
Ghazal
ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا
Ghazal
عشق نشہ ہے نہ جادو جو اتر بھی جائے
Ghazal
بھید پائیں تو رہ یار میں گم ہو جائیں
Ghazal
چاک پیراہنیٔ گل کو صبا جانتی ہے
Ghazal
چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیا
Ghazal
ہم اپنے آنسوؤں کا افسانہ کیا سنائیں
Ghazal
جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنا
Ghazal
جاناں دل کا شہر نگر افسوس کا ہے
Ghazal
دل بدن کا شریک حال کہاں
Ghazal
غنیم سے بھی عداوت میں حد نہیں مانگی
Ghazal
غرور جاں کو مرے یار بیچ دیتے ہیں
Ghazal
تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھا
Ghazal
جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا یارا اس دن تھا
Ghazal
پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچ
Ghazal
نہ سہہ سکا جب مسافتوں کے عذاب سارے
Ghazal
غیرت عشق سلامت تھی انا زندہ تھی
Ghazal
ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے
Ghazal
یہ بے دلی ہے تو کشتی سے یار کیا اتریں
Ghazal
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
Ghazal
چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح
Ghazal
سکوت شام خزاں ہے قریب آ جاؤ
Ghazal
رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے
Ghazal
منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں
Ghazal
تو کہ انجان ہے اس شہر کے آداب سمجھ
Ghazal
وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیا
Ghazal
کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی
Ghazal
ترا قرب تھا کہ فراق تھا وہی تیری جلوہ گری رہی
Ghazal
تھا عبث ترک تعلق کا ارادہ یوں بھی
Ghazal
قامت کو تیرے سرو صنوبر نہیں کہا
Ghazal
سوئے فلک نہ جانب مہتاب دیکھنا
Ghazal
بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئے
Ghazal
کسی جانب سے بھی پرچم نہ لہو کا نکلا
Ghazal
جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گا
Ghazal
ہر آشنا میں کہاں خوئے محرمانہ وہ
Ghazal
بے سر و ساماں تھے لیکن اتنا اندازہ نہ تھا
Ghazal
بے نیاز غم پیمان وفا ہو جانا
Ghazal
اس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھے
Ghazal
ردائے زخم ہر گل پیرہن پہنے ہوئے ہے
Ghazal
شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ
Ghazal
ہر کوئی طرۂ پیچاک پہن کر نکلا
Ghazal
نہیں کہ نامہ بروں کو تلاش کرتے ہیں
Ghazal
تپتے صحراؤں پہ گرجا سر دریا برسا
Ghazal
افعی کی طرح ڈسنے لگی موج نفس بھی
Ghazal
اک بوند تھی لہو کی سر دار تو گری
Ghazal
دل میں اب طاقت کہاں خوں نابہ افشانی کرے
Ghazal
پھرتے ہیں اب بھی دل کو گریباں کیے ہوئے
Ghazal
عرض غم کبھی اس کے روبرو بھی ہو جائے
Ghazal
طعنہ زن تھا ہر کوئی ہم پر دل ناداں سمیت
Ghazal
اے خدا جو بھی مجھے پند شکیبائی دے
Ghazal
اے تو کہ روز و شب کو مہ و آفتاب دے
Ghazal
بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے
Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی
Nazm
مجھ سے پہلے
Nazm
واپسی
Nazm
محاصرہ
Nazm
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
Nazm
خوابوں کے بیوپاری
Nazm
مت قتل کرو آوازوں کو
Nazm
دوستی کا ہاتھ
Nazm
ہچ ہائیکر
Nazm
اے عشق جنوں پیشہ
Nazm
اگر یہ سب کچھ نہیں
Nazm
عید کارڈ
Nazm
اے میرے سارے لوگو
Nazm
ابھی ہم خوبصورت ہیں
Nazm
شہر نامہ
Nazm
ہمدرد
Nazm
میں اور تو
Nazm
سرحدیں
Nazm
کنیز
Nazm
کر گئے کوچ کہاں
Nazm
تو بہتر ہے یہی
Nazm
اے میرے وطن کے خوش نواؤ
Nazm
انتساب
Nazm
پہلی آواز
Nazm
مجسمہ
Nazm
نامۂ جاناں
Nazm
کالی دیوار
Nazm
اے مرے بے درد شہر
Nazm
سوال
Nazm
میورکا
Nazm
بن باس کی ایک شام
Nazm
زیر لب
Nazm
تخلیق
Nazm
تضمین
Nazm
بن باس
Nazm
سفید چھڑیاں
Nazm
تسلسل
Nazm
دیوار گریہ
Nazm
اے نگار گل
Nazm
کردار
Nazm
گل شدہ شمعوں کا ماتم نہ کرو