بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے
فنون
Published 13 October 2026
بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے
کہ زہر غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے
وہ سامنے ہے مگر تشنگی نہیں جاتی
یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے
مگر کبھی کوئی دیکھے ہمیں پڑھے تو سہی
دل آئنہ ہے تو چہرہ کتاب جیسا ہے
بہار خوں سے چمن زار بن گئے مقتل
جو نخل دار ہے شاخ گلاب جیسا ہے
کہاں وہ قرب کہ اب تو یہ حال ہے جیسے
ترے فراق کا عالم بھی خواب جیسا ہے
قریب ہو تو قیامت نہ ہو تو رات ہی رات
وہ آفتاب نہیں آفتاب جیسا ہے
فرازؔ سنگ ملامت سے زخم زخم سہی
ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا ہے
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)