کالی دیوار
کلامِ احمد فراز
Published 13 October 2026
کل واشنگٹن شہر کی ہم نے سیر بہت کی یار
گونج رہی تھی سارے جگ میں جس کی جے جے کار
ملکوں ملکوں ہم گھومے تھے بنجاروں کی مثل
لیکن اس کی سج دھج سچ مچ دل داروں کی مثل
روشنیوں کے رنگ بہیں یوں رستہ نظر نہ آئے
من کی آنکھوں والا بھی یاں اندھا ہو ہو جائے
بالا بام چراغاں رستے روپ بھرے بازار
جاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے خوابوں کا سنسار
ایک سفید حویلی جس میں بہت بڑی سرکار
یہیں کریں سوداگر چھوٹی قوموں کا بیوپار
یہیں پہ جادو گر بیٹھا جب کہیں کی ڈور ہلائے
ہر بستی ناگا ساکی ہیروشیما بن جائے
اسی حویلی سے کچھ دور ہی اک کالی دیوار
لوگوں کی وہ بھیڑ لگی تھی چلنا تھا دشوار
اس کالی دیوار پہ کندہ دیکھے ہزارو نام
ان ناموں کے بیچ لکھا تھا شہدائے وتنام
دور دور سے جمع ہوئے تھے طرح طرح کے لوگ
آنکھوں آنکھوں ویرانی تھی چہروں چہروں سوگ
بیکل بہنیں گھائل مائیں کرلاتی بیوائیں
ساجن تم کس دیس سدھارے پوچھیں محبوبائیں
اپنے پیاروں دل داروں کا اوجھل مکھڑا ڈھونڈیں
اس کالی دیوار پہ ان کے نام کا ٹکڑا ڈھونڈیں
دلوں میں غم پلکوں پر شبنم ہاتھوں میں پھول اٹھائے
اس ناموں کے قبرستان کا بھید کوئی کیا پائے
نہ تربت نہ کتبہ کوئی نہ ہڈی نہ ماس
پھر بھی پاگل نیناں کو تھی پیا ملن کی آس
کہیں کہیں دیوار پہ چسپاں ایک سفید گلاب
جیسے ماں كا کوئی آنسو جیسے باپ كا خواب
سبھی کے دل میں کانٹا بن کر کھٹکے ایک سوال
کس کارن مٹی میں ملائے ہیروں جیسے لال
پیلے دیس پہ ہم نے کیا کیا اندھیارے برسائے
اس کے جیالے تو کٹ مر کر روشنیاں لے آئے
لیکن اتنے چاند گنوا کر ہم نے بھلا کیا پایا
ہم بد قسمت ایسے جن کو دھوپ ملی نہ چھایا
مکھ موتی دے کر حاصل کی یہ کالی دیوار
یہ کالی دیوار جو بس ہے اک خالی دیوار
یہ کالی دیوار جو ہے ناموں کا قبرستان
واشنگٹن کے شہر میں دفن ہیں کس کس کے ارمان
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)