Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے عشق جنوں پیشہ

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

عمروں کی مسافت سے

تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیت کے

بے کار گئے آخر

اغیار کی بانہوں میں

دل دار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو

غم خوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی

تا چند وفا کیشا

وہ وادئ الفت تھی

یا کوہ الم جو تھا

سب مد مقابل تھے

خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے

خوں نابہ بہم جو تھا

رستوں میں لٹایا ہے

وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنج شکست دل

نے جان کا اندیشہ

۔

کچھ اہل ریا بھی تو

ہم راہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے

جو روپ بھی دھارے تھے کچھ سہل طلب بھی تھے

وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے

ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نس نس میں

گھائل تھے رگ و ریشہ

جو جسم کا ایندھن تھا

گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا

جی بھر کے پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے

جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ محبت کی

کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے

لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے

اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا

یوں ہے کہ سفر اپنا

تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے

فردا کا پری خانہ

صد شکر سلامت ہے

پندار فقیرانہ

اس شہر خموشی میں

پھر نعرۂ مستانہ

اے ہمت مردانہ

صد خارہ و یک تیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz