ہچ ہائیکر
کلیاتِ احمد فراز
Published 13 October 2026
میں کہ دو روز کا مہمان ترے شہر میں تھا
اب چلا ہوں تو کوئی فیصلہ کر بھی نہ سکا
زندگی کی یہ گھڑی ٹوٹتا پل ہو جیسے
کہ ٹھہر بھی نہ سکوں اور گزر بھی نہ سکوں
مہرباں ہیں تری آنکھیں مگر اے مونس جاں
ان سے ہر زخم تمنا تو نہیں بھر سکتا
ایسی بے نام مسافت ہو تو منزل کیسی
کوئی بستی ہو بسیرا ہی نہیں کر سکتا
ایک مدت ہوئی لیلائے وطن سے بچھڑے
اب بھی رستے ہیں مگر زخم پرانے میرے
جب سے صرصر مرے گلشن میں چلی ہے تب سے
برگ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے
آج اس شہر کل اس شہر کا رستہ لینا
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
یہ سفر اتنا مسلسل ہے کہ تھک ہار کے بھی
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
تو بھی ایسا ہی دل آرام شجر ہے جس نے
مجھ کو اس دشت قیامت سے بچائے رکھا
ایک آشفتہ سر و آبلہ پا کی خاطر
کبھی زلفوں کبھی پلکوں کو بچھائے رکھا
دکھ تو ہر وقت تعاقب میں رہا کرتے ہیں
یوں پناہوں میں کہاں تک کوئی رہ سکتا ہے
کب تلک ریت کی دیوار سنبھالے کوئی
وہ تھکن ہے کہ میرا جسم بھی ڈھ سکتا ہے
اجنبی لوگ نئے لوگ پرائی گلیاں
زندگی ایسے قرائن میں کٹے گی کیسے
تیری چاہت بھی مقدس تیری قربت بھی بہشت
دیس پر دیس کی تفریق گھٹے گی کیسے
ناگزیر آج ہوا جیسے بچھڑنا اپنا
کل کسی روز ملاقات بھی امکان میں ہے
میں یہ پیراہن جاں کیسے بدل سکتا ہوں
کہ ترا ہاتھ میرے دل کے گریبان میں ہے
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)