پھرتے ہیں اب بھی دل کو گریباں کیے ہوئے
Published 13 October 2026
پھرتے ہیں اب بھی دل کو گریباں کیے ہوئے
جن وحشیوں پہ ہیں ترے احساں کیے ہوئے
تجدید عشق کیا ہو کے برسوں گزر گئے
تجھ سے کوئی سخن بھی مری جاں کیے ہوئے
اب تجھ سے کیا گلہ ہو کے اک عمر ہو گئی
ہم کو بھی قصد کوچۂ جاناں کیے ہوئے
دل سے ہوئی ہے پھر ترے بارے میں گفتگو
تر آنسوؤں سے دیدہ و داماں کیے ہوئے
جی مانتا نہیں ہے کہ ہم بھی بھلا چکیں
تیری طرح سے وعدہ و پیماں کیے ہوئے
کچھ ضد میں ناصحوں کی تجھے چاہتے رہے
کچھ پاسداریٔ دل ناداں کیے ہوئے
ہم وہ کہ تجھ کو شعر میں تصویر کر دیا
صورت گران شہر کو حیراں کیے ہوئے
بازار سرد تھا نہ خریدار کم نظر
ہم خود تھے اپنے آپ کو ارزاں کیے ہوئے
اے عشق ہم سے اور بھی ہوں گے زمانے میں
اچھے بھلے گھروں کو بیاباں کیے ہوئے
کچھ ہم سے نامراد کہ پھرتے ہیں کو بہ کو
دل کو کسی فقیر کا داماں کیے ہوئے
وعدہ کیا تھا اس نے کسی شام کا کبھی
ہم آج تک ہیں گھر میں چراغاں کیے ہوئے
اب اس کے جور سے بھی گئے ہم کہ جب سے ہیں
اپنے کیے پہ اس کو پشیماں کیے ہوئے
یہ رت جگے قبول کہ آرام سے تو ہیں
رکھتے تھے ورنہ خواب پریشاں کیے ہوئے
ہم وہ اسیر ہیں کہ زمانے گزر گئے
بند اپنے آپ پر در زنداں کیے ہوئے
ترک وفا کے بعد ہوس اختیار کی
اس کاروبار میں بھی ہیں نقصاں کیے ہوئے
جان فرازؔ مرگ تمنا کے باوجود
بھولے نہیں ہمیں ترے احساں کیے ہوئے
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)