Prof. Syed Mujahid Sajjad

تو بہتر ہے یہی

Ahmed Faraz

کلیاتِ احمد فراز

Published 13 October 2026

یہ تری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکن

کتنے اندیشوں کی حامل ہیں یہ دل کی دھڑکنیں

پیشتر اس کے کہ ہم پھر سے مخالف سمت کو

بے خدا حافظ کہے چل دیں جھکا کر گردنیں

آؤ اس دکھ کو پکاریں جس کی شدت نے ہمیں

اس قدر اک دوسرے کے غم سے وابستہ کیا

وہ جو تنہائی کا دکھ تھا تلخ محرومی کا دکھ

جس نے ہم کو درد کے رشتے میں پیوستہ کیا

وہ جو اس غم سے زیادہ جاں گسل قاتل رہا

وہ جو اک سیل بلا انگیز تھا اپنے لیے

جس کے پل پل میں تھے صدیوں کے سمندر موجزن

چیختی یادیں لیے اجڑے ہوئے سپنے لیے

میں بھی ناکام وفا تھا تو بھی محروم مراد

ہم یہ سمجھے تھے کہ درد مشترک راس آ گیا

تیری کھوئی مسکراہٹ قہقہوں میں ڈھل گئی

میرا گم گشتہ سکوں پھر سے مرے پاس آ گیا

تپتی دوپہروں میں آسودہ ہوئے بازو مرے

تیری زلفیں اس طرح بکھریں گھٹائیں ہو گئیں

تیرا برفیلا بدن بے ساختہ لو دے اٹھا

میری سانسیں شام کی بھیگی ہوائیں ہو گئیں

زندگی کی ساعتیں روشن تھیں شمعوں کی طرح

جس طرح سے شام گزرے جگنوؤں کے شہر میں

جس طرح مہتاب کی وادی میں دو سائے رواں

جس طرح گھنگھرو چھنک اٹھیں نشے کی لہر میں

آؤ یہ سوچیں بھی قاتل ہیں تو بہتر ہے یہی

پھر سے ہم اپنے پرانے زہر کو امرت کہیں

تو اگر چاہے تو ہم اک دوسرے کو چھوڑ کر

اپنے اپنے بے وفاؤں کے لیے روتے رہیں

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz