یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
Published 13 October 2026
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئیں گے اور غم خوار بن جائیں گے ہم
ہم سر چاک وفا ہیں اور ترا دست ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اے نگار شعر تیرے عشق میں
دلبران شہر کے دل دار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائیں گے ہم
اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قدر آساں نہ ہوگی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم
میرؔ و غالبؔ کیا کہ بن پائے نہیں فیضؔ و فراقؔ
زعم یہ تھا رومیؔ و عطارؔ بن جائیں گے ہم
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)